ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منگلورو : حجاب پر نیا ہنگامہ - منگلورو یونیورسٹی کالج میں حجاب مخالف اے بی وی پی کا احتجاجی دھرنا

منگلورو : حجاب پر نیا ہنگامہ - منگلورو یونیورسٹی کالج میں حجاب مخالف اے بی وی پی کا احتجاجی دھرنا

Fri, 27 May 2022 21:40:55    S.O. News Service

منگلورو،27؍ مئی (ایس او نیوز) شہر کے ہمپن کٹا میں واقع منگلورو یونیورسٹی کالج میں مسلم طالبات حجاب کے ساتھ  کالج میں حاضر ہونے پر اے بی وی پی سے تعلق رکھنے والے حجاب مخالف طلبہ نے احتجاجی مظاہرا کیا اور حجاب پہننے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کالج احاطہ میں دھرنا دیا۔
    
بتایا جاتا ہے کہ کچھ دن پہلے کالج انتظامیہ کمیٹی نے ایک میٹنگ منعقد کی تھی اور طالبات کو حجاب نہ پہننے کی ہدایت دی تھی ، مگر کچھ طالبات حجاب کے ساتھ  کالج میں حاضر ہوئیں اور انہیں روکا نہیں گیا تو حجاب مخالف طلبہ کالج کے ذمہ داران کے خلاف احتجاج پر اتر آئے اور کلاس رومس کا بائیکاٹ کیا ۔ احتجاجی طلبہ اس بات پر اڑ گئے کہ اگر مسلم طالبات حجاب پہن کر آئیں گی تو وہ بھی زعفرانی شال اوڑھ کر کلاس روم میں آئیں گے۔ 
    
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے اور حکومت کی طرف سے جاری سرکیولر کے بعد کالج یونیفارم میں حجاب کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ منگلورو یونیورسٹی سنڈیکیٹ میں بھی ایسا ہی فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس کے باوجود کالج انتظامیہ حجاب پہننے کا موقع  دے رہی ہے۔ 
    
اس دوران حجاب مخالف طلبہ اسٹوڈنٹس یونین لیڈر سے ناراض نظر آئے اور کہا کہ ہم لوگوں نے انہیں منتخب کیا ہے اور اب وہ مسلم طالبات اور ان کے والدین کے جذبات کا بھی لحاظ کرنے اور ان کے تعلق سے نرم گوشہ اپنانے کی بات کر رہے ہیں۔ اس لئے حجاب کی حمایت میں کھڑے ہونے والے اسٹوڈنٹس یونین لیڈر کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔ 
    
اس تعلق سے کالج کے پرنسپال نے وضاحت کی ہے کہ :" 2018 میں کالج کے پراسپیکٹس میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ کالج میں یونیفارم لاگو رہے گا ، جو طالبات حجاب پہننا چاہتی ہیں انہیں یونیفارم کا ڈوپٹہ ہی سر پر اوڑھنے کی اجازت رہے گی ۔ مگر امسال 17 مئی کو منگلورو یونیورسٹی سنڈیکیٹ نے فیصلہ کیا ہے یونیفارم کے ساتھ سر پر کوئی بھی چیز اوڑھنے کی اجازت نہیں رہے گی ۔ اس حکم پر عمل پیرائی کے اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔ کالج میں 1,600 طلبہ زیر تعلیم ہیں ۔ ان میں سے صرف 44 طالبات حجاب پہنتی ہیں ۔ کالج کی طرف سے نوٹس دئے جانے کے بعد ان میں سے بعض طالبات حجاب اتار کر کلاس میں حاضر ہو رہی ہیں ۔ ابھی کچھ طالبات کلاس میں حاضر نہیں ہو رہی ہیں ۔ کچھ طالبات کالج کیمپس میں حجاب پہنتی ہیں ۔ اس پر کچھ طلبہ نے اعتراض جتاتے ہوئے احتجاجی مظاہرا کیا ہے ۔ ہم حکمنامے پر مرحلہ وار عمل کر رہے ہیں ۔ اس تعلق سے طلبہ کو آگاہ کیا گیا ہے۔"
     
مظاہرے کے دوران یونیورسٹی کے وائس چانسلر کشور کمار نے موقع پر پہنچ کر احتجاجی طلبہ کو یقین دلایا کہ حجاب کے تعلق سے جو حکم ہے اس پر سختی کے ساتھ عمل کیا جائے گا ۔ دوسری طرف کچھ مسلم طالبات نے ڈپٹی کمشنر کے دفتر پہنچ کر اپیل کرنے کی کوشش کی مگر ڈی سی سے ان کی ملاقات ممکن نہیں ہو سکی ۔ اس موقع پر ان طالبات نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ "ہم نے 16 مئی تک حجاب کے ساتھ کالج میں حاضری دی ہے ۔ یہاں تک کہ ہم نے امتحان بھی حجاب پہن کر ہی دیا ہے ۔ اچانک  16 مئی کو ہمیں حجاب پہننے کی اجازت نہ ہونے کا پیغام دیا گیا ہے۔"


Share: